خصائص علی ؑ - از امام نسائی
Haq Apps
1.0 Varies with device
امام نسائی کی وفات حسرت آیات کا واقعہ یہ ہے کہ جس وقت امام حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور دیگر حضرات اہل بیت کے فضائل ومناقب تحریر فرما کر فارغ ہو گئے تو امام نے چاہا کہ میں یہ فضائل ومناقب (دمشق کی جامع مسجد میں ) پڑھ کر سناؤں تاکہ لوگ فضائل اہل بیت سے واقف ہوں۔چنانچہ ابی اپنی تحریر کا کچھ حصہ ہی پڑھا تھا کہ مجمع میں سے ایک شخص نے دریافت کیا: آپ نے حضرت معاویہ کے متعلق بھی کچھ تحریر فرمایا ہے؟امام نسائی نے جوابا فرمایا: وہ اگر برابر ہی چھوٹ جائیں جب بھی غنیمت ہے۔(یعنی امیر معاویہ کے مناقب کی ضرورت نہیں ) یہ بات سنتے ہی لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو شیعہ، شیعہ کہہ کر مارنا شروع کر دیا اور اس قدر مارا کہ بے ہوش ہو گئے، لوگ ان کو گھر لے آئے ۔جب ہوش آیا تو فرمایا: مجھ کو لوگو مکہ مکرمہ پہنچا دو چنانچہ مکہ معظمہ پہنچا دیا گیا اور وہیں امام موصوف کی وفات ہوئی اور صفا اور مروہ کے درمیان تدفین ہوئی۔ سنہ وفات ماہ صفر ٣٠٣ھ ہے۔

Al-Nasa'i compiled a large number of Ahadeeth in favor of Ali Ibn Abi Talib and shaped them into a book known as "Khasais Ali" or "Khasais Kubra". When the followers of Muawiyah came to know about this, they asked Al-Nasa'i to also compile the Ahadeeth in favor of Muawiyah. Al-Nasa'i rejected their will by saying that there is no Ahadeeth or saying of Prophet Muhammad in favor of Muawiyah. The Syrians then beat Al-Nasa'i till he died. A well-known Sunni scholar of Pakistan, Allamah Ghulam Rasool Saeedi also recorded this event in his famous book of Tazkiratul Mohadiseen.

Content rating: Everyone

Requires OS: 2.1 and up

...more ...less